دہی بھلے
دہی بھلے رمضان اور عید کی جان ہیں: نرم اسفنج جیسے دال کے بھلے، بھگو کر ملائم کیے ہوئے، پھر ٹھنڈے ہلکے میٹھے دہی، چنوں، آلوؤں اور گہری بھوری میں ڈوبے ہوئے۔ اس پاکستانی ترکیب میں بھلے بھیگی ماش کی دال اور ایک چمچ سے بنتے ہیں جنہیں پھولنے تک پھینٹا جاتا ہے۔ آمیزے کو اچھی طرح اور نیم گرم پانی میں بھگونا ہی انہیں سخت کی بجائے منہ میں گھلنے والا نرم بناتا ہے۔
- ⏱ کل وقت: 1 گھنٹہ 10 منٹ
- تیاری: 40 منٹ
- پکانا: 30 منٹ
- درمیانہ
- افراد 6
ترکیب
مرحلہ مکمل ہونے پر ٹیپ کریں۔
بھیگی دال کا پانی اچھی طرح نکال لیں اور بلینڈر میں صرف ۳ سے ۴ کھانے کے چمچ پانی کے ساتھ گاڑھا اور کافی ملائم پیس لیں۔ ایک بڑے برتن میں نکال لیں۔
پیسٹ کو ہاتھ سے ایک ہی سمت میں ۵ سے ۷ منٹ زور سے پھینٹیں۔ یہ سب سے اہم مرحلہ ہے: آمیزہ ہلکے رنگ کا، ہلکا اور پھولا ہوا ہو جاتا ہے اور اس کا چھوٹا سا قطرہ پانی کے پیالے میں تیرنے لگتا ہے۔ اب ، نمک، زیرہ، ہری مرچ اور میٹھا سوڈا ملا دیں۔
میں درمیانی آنچ پر تیل تقریباً ۱۶۵ ڈگری تک گرم کریں، یعنی آمیزے کا قطرہ بلبلوں کے ساتھ آرام سے اوپر آئے۔ گیلی انگلیوں سے اخروٹ جتنے گولے ایک بار میں ۸ سے ۱۰ ڈالیں۔ ۵ سے ۶ منٹ پلٹتے ہوئے تلیں جب تک یکساں سنہرے اور اندر سے پک نہ جائیں۔
گرم گرم بھلے سیدھے نیم گرم نمکین پانی کے برتن میں ڈال دیں اور ۲۰ سے ۳۰ منٹ بھیگنے دیں، جب تک نرم ہو کر پھول نہ جائیں۔ پھر ہر بھلا دونوں ہتھیلیوں کے بیچ ہلکا سا دبا کر زیادہ تر پانی نچوڑ دیں، ٹوٹنے نہ پائے۔
دہی میں ٹھنڈا دودھ، چینی اور نمک ڈال کر اتنا پھینٹیں کہ بالکل ملائم اور گاڑھی کریم کی طرح بہنے والا ہو جائے۔
نچوڑے ہوئے بھلے ایک ڈش میں رکھیں۔ ان کے گرد چنے اور آلو بکھیریں اور اوپر سے دہی اس طرح ڈالیں کہ بھلے پوری طرح ڈھک جائیں۔ کم از کم ایک گھنٹہ ٹھنڈا کریں۔
پیش کرنے سے ذرا پہلے اوپر ڈالیں اور ، بھنا زیرہ، پسی لال مرچ اور ہرا دھنیا چھڑکیں۔
باورچی خانے کے نوٹس
دال کم سے کم پانی میں پیسیں۔ پتلا آمیزہ تیل میں شکل قائم نہیں رکھتا اور بھلے چپٹے اور سخت بنتے ہیں۔
تلنے سے پہلے تیرنے والا ٹیسٹ ضرور کریں۔ اگر قطرہ ڈوب جائے تو چند منٹ اور پھینٹیں۔
درمیانی آنچ پر تلیں، تیز پر نہیں۔ بہت گرم تیل میں باہر سے بھورے ہو جاتے ہیں اور اندر سے کچے اور چپچپے رہ جاتے ہیں۔
افطار اور عید ایک ہی پلیٹ میں
دہی بھلے افطاری میں پکوڑوں اور فروٹ چاٹ کے ساتھ رکھے جاتے ہیں، اور عید پر تو تقریباً ہمیشہ بنتے ہیں، جب ان کی ایک بڑی ڈش رات بھر فریج میں ٹھنڈی ہوتی ہے۔ یہ ٹھیلوں کا ناشتہ بھی ہیں: لاہور اور کراچی کے چاٹ والے بھیگے بھلوں کا برتن تیار رکھتے ہیں اور فرمائش پر دہی اور چٹنیوں کے ساتھ پلیٹ بنا دیتے ہیں، اکثر ساتھ چند پاپڑیاں یا ایک چمچ چنا چاٹ بھی۔
پھینٹنا اور بھگونا
دو مرحلے سارا فرق ڈالتے ہیں۔ پہلا، دال کے پیسٹ کو کئی منٹ ہاتھ سے پھینٹا جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں خوب ہوا بھر جائے؛ یہی ہوا تیل میں پھیلتی ہے اور بھلے اندر سے اسفنج کی طرح نرم بنتے ہیں۔ پانی میں آمیزے کا قطرہ تیرنے لگے تو سمجھیں آمیزہ تیار ہے۔ دوسرا، تلے ہوئے بھلے گرم گرم ہی نیم گرم نمکین پانی میں ڈالے جاتے ہیں۔ وہ پانی جذب کر کے پھولتے اور نرم ہوتے ہیں، اور بعد میں نچوڑنے سے ان میں دہی جذب کرنے کی جگہ بنتی ہے۔ ان میں سے کوئی ایک مرحلہ چھوڑیں تو بھلے سخت اور ربڑ جیسے بنتے ہیں۔
مختلف انداز
- بیسن کے بھلے: صرف بیسن سے جلدی بننے والا انداز، بہت سے پاکستانی گھروں میں عام۔
- مونگ اور ماش: آدھی مونگ اور آدھی ماش کی دال سے ذرا ہلکے بھلے بنتے ہیں۔
- پاپڑی کے ساتھ: کرکراہٹ کے لیے اوپر ٹوٹی پاپڑی یا سیو، بالکل چاٹ کی پلیٹ کی طرح۔
رکھنا
تیار دہی بھلے فریج میں ایک دن چلتے ہیں؛ بھلے مزید نرم ہو جاتے ہیں جو بہت سے لوگوں کو پسند ہے۔ چٹنی اور مصالحے الگ رکھیں اور پیش کرنے سے ذرا پہلے ڈالیں تاکہ دہی سفید اور تازہ نظر آئے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا صرف بیسن سے بھلے بنا سکتے ہیں؟
جی ہاں، بہت سے پاکستانی گھروں میں یہی بنتے ہیں۔ بیسن میں نمک اور چٹکی بھر سوڈا ڈال کر گاڑھا آمیزہ بنائیں، خوب پھینٹیں اور اسی طرح تلیں۔ بیسن کے بھلے ہلکے اور نرم ہوتے ہیں مگر ماش کی دال جیسا بھرپور ذائقہ نہیں ہوتا۔
کیا عید کے لیے پہلے سے بنا سکتے ہیں؟
تلے ہوئے بغیر بھیگے بھلے فریج میں ۲ دن یا فریزر میں ایک مہینہ چلتے ہیں۔ پیش کرنے سے چند گھنٹے پہلے انہیں نیم گرم پانی میں بھگو لیں، جمے ہوئے بھی، اور تازہ دہی کے ساتھ سجا لیں۔
میرے بھلے بیچ سے سخت کیوں رہتے ہیں؟
عموماً آمیزہ پوری طرح پھینٹا نہیں گیا ہوتا، یا بھلے کم دیر بھیگے ہوتے ہیں۔ اتنا پھینٹیں کہ قطرہ تیرنے لگے، اور اتنا بھگوئیں کہ دبانے پر اندر تک نرم محسوس ہوں۔
غذائیت (اندازاً، فی کس)
- کیلوریز
- 330
- پروٹین
- 15 g
- چکنائی
- 13 g
- کاربوہائیڈریٹ
- 38 g