روٹیوں کا ملک
ہر ترکی کھانے کے بیچ میں روٹی ہوتی ہے، اور ترکی میں درجنوں روٹیاں اور بھری پیسٹریاں ہیں۔ بہت سی پاکستانی باورچی کو جانی پہچانی لگیں گی: نان جیسے خمیر والے نرم آٹے، روٹی اور پراٹھے کی طرح توے پر پکی بغیر خمیر کی چادریں، اور سموسے اور اسپرنگ رول کی طرح بھرائی کے گرد لپٹی پتلی پیسٹری۔
چار پسندیدہ
لحم عجون کاغذ جیسی پتلی گول روٹی ہے جس پر کچا قیمے کا پیسٹ لگا کر منٹوں میں بیک کیا جاتا ہے، پھر پارسلے، پیاز اور لیموں کے ساتھ لپیٹ کر کھایا جاتا ہے۔ قیمالی پیدے نرم، کشتی نما روٹی ہے جس میں مصالحے دار قیمہ بھرا ہوتا ہے، کبھی بیچ میں انڈے کے ساتھ۔ گوزلمے دیہات کی توے والی روٹی ہے، پتلا آٹا پالک اور پنیر یا آلو کے گرد موڑ کر مکھن کے ساتھ توے پر پکایا جاتا ہے، تقریباً ترکی بھرا پراٹھا۔ سیگارا بوریگی سفید پنیر کے گرد پتلی پیسٹری کے کرکرے رول ہیں، چائے کے ساتھ پسندیدہ اسنیک۔
ترکی تندور کے بغیر
ترکی بیکریاں لکڑی کے بہت گرم تندور استعمال کرتی ہیں۔ گھر میں:
- لحم عجون اور پیدے کے لیے اوون جتنا گرم ہو سکے کریں، اندر ٹرے یا پتھر رکھ کر۔
- اوون نہ ہو تو لحم عجون کے لیے ڈھکن والا بھاری توا حیرت انگیز حد تک اچھا کام کرتا ہے۔
- گوزلمے کو بس توا چاہیے، بالکل پراٹھے کی طرح۔
پاکستانی سامان سے آسانیاں
فروزن سموسہ اور اسپرنگ رول پٹی سے بہترین بورک بنتے ہیں۔ ترکی سفید پنیر کی جگہ پنیر یا فیٹا۔ مصروف رات میں تیار پتلی روٹیاں لحم عجون کے آٹے کی جگہ لے سکتی ہیں۔ اور ان میں سے ہر روٹی ٹھنڈے آیران کے گلاس کے ساتھ بہترین لگتی ہے۔
مزید آزمائیں
سمیت، استنبول کے ہر کونے پر بکنے والا تل والا روٹی کا چھلا، اور پوآچا، نرم پنیر بھرے ناشتے کے بن، دونوں گھر پر آسانی سے بنتے ہیں۔
سب سے قیمتی بورک کے لیے سو بوریگی، پنیر والا تہہ دار “پانی والا بورک”، آزمائیں۔