تڑکے والی چنے کی دال
چنے کی دال روزمرہ کی دالوں میں سب سے بھرپور ہے: سنہری، ہلکی سی میوے جیسی دال جو نرم ہو کر بھی اپنی شکل میں رہتی ہے، گاڑھے مصالحے دار شوربے میں۔ یہ دوپہر یا رات کو روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہے اور سادہ چاولوں کے ساتھ بھی اتنی ہی مزیدار ہے۔ تھوڑی دیر بھگونا اور پیاز ٹماٹر کا اچھا بھنا ہوا مصالحہ اسے جان دیتا ہے، اور آخر میں لہسن اور لال مرچ کا خوشبو بکھیر دیتا ہے۔
- ⏱ کل وقت: 2 گھنٹہ
- تیاری: 1 گھنٹہ 10 منٹ
- پکانا: 50 منٹ
- آسان
- افراد 4
ترکیب
مرحلہ مکمل ہونے پر ٹیپ کریں۔
چنے کی دال کو ۳ سے ۴ پانیوں میں دھو کر کافی پانی میں ایک گھنٹہ بھگو دیں۔ پکانے سے ذرا پہلے پانی نکال دیں۔
میں درمیانی سے تیز آنچ پر تیل گرم کریں۔ پیاز ڈال کر چلاتے ہوئے ۷ سے ۸ منٹ ہلکی سنہری ہونے تک فرائی کریں۔
ادرک لہسن کا پیسٹ ڈال کر ایک منٹ چلائیں۔ ٹماٹر، ہلدی، لال مرچ، پسا دھنیا اور نمک ڈالیں اور ۶ سے ۷ منٹ کریں جب تک ٹماٹر گھل نہ جائیں اور تیل الگ نہ ہو جائے۔
پانی نکالی ہوئی دال ڈالیں اور ۲ منٹ چلائیں تاکہ مصالحہ لگ جائے۔ پانی ڈال کر اُبال آنے دیں۔
ڈھک کر ہلکی آنچ پر ۳۵ سے ۴۰ منٹ پکائیں، ہر ۱۰ منٹ بعد چلائیں، جب تک دال اتنی نرم نہ ہو جائے کہ چمچ سے پس جائے مگر زیادہ تر دانے ثابت رہیں۔ زیادہ گاڑھی ہو تو گرم پانی ڈالیں۔
چند چمچ دال برتن کی دیوار پر ہلکا سا مسل دیں تاکہ شوربہ گاڑھا ہو جائے، گرم مصالحہ ملائیں اور ڈھکن ہٹا کر ۲ منٹ مزید پکائیں۔
تڑکے کے لیے چھوٹے برتن میں گھی گرم کریں، زیرہ ڈالیں اور چٹخنے لگے تو کٹا لہسن ڈالیں۔ سنہری ہونے پر ثابت لال مرچیں ڈال کر چند سیکنڈ تڑکائیں، پھر تڑکتا ہوا دال پر ڈال دیں۔
اوپر ہرا دھنیا اور ہری مرچیں ڈالیں اور روٹی، نان یا سادہ چاولوں کے ساتھ گرم گرم پیش کریں۔
باورچی خانے کے نوٹس
بھگونا نہ چھوڑیں۔ بغیر بھگوئی چنے کی دال ایک گھنٹے سے زیادہ لے سکتی ہے اور پھر بھی اندر سے سخت رہ سکتی ہے۔
پرانی دال دیر سے گلتی ہے۔ ۴۰ منٹ بعد بھی سخت ہو تو تھوڑا گرم پانی ڈال کر پکاتے رہیں۔ پکتی دال میں کبھی ٹھنڈا پانی نہ ڈالیں۔
پریشر ککر میں پہلی سیٹی کے بعد تقریباً ۱۰ منٹ میں دال گل جاتی ہے۔ پریشر خود ختم ہونے دیں۔
روزمرہ کی دال، ذرا دانے دار
پاکستانی باورچی خانے کی سب دالوں میں چنے کی دال سب سے زیادہ دانے دار ہوتی ہے۔ یہ چھلکا اتری اور دلی ہوئی کالے چنے کی دال ہے، اس لیے مسور یا مونگ کے مقابلے میں اپنی شکل بہتر رکھتی ہے اور ذائقہ ہلکا میٹھا اور میوے جیسا ہوتا ہے۔ اسی لیے دال گوشت میں یہی دال ڈالی جاتی ہے، اور اکیلی بھی روٹی کے ساتھ پیٹ بھر دیتی ہے۔ بہت سے گھروں میں یہ دوپہر کے کھانے اور رات کے سالن کے ساتھ اکثر بنتی ہے۔
اصل گُر: بھگوئیں، پھر آہستہ پکائیں
چنے کی دال کو پہلے سے تیاری چاہیے۔ ایک گھنٹہ بھگونے سے اوپر کی تہہ نرم ہو جاتی ہے اور دانے یکساں گلتے ہیں۔ سادہ اُبالنے کی بجائے اچھے بھنے ہوئے پیاز ٹماٹر کے مصالحے میں پکانے سے ہر دانے میں مصالحہ رچ جاتا ہے۔ آنچ ہلکی اور ڈھکن بند رکھیں، اور جب دانہ چمچ سے آسانی سے پس جائے تو سمجھیں دال تیار ہے۔ آخر میں چند چمچ دال مسلنے سے شوربہ گاڑھا ہو جاتا ہے اور پوری دال لئی نہیں بنتی۔
مختلف انداز
- دال گوشت: ۵۰۰ گرام بکرے کا گوشت مصالحے میں بھونیں، پانی ڈال کر تقریباً گلا لیں، پھر دال ڈالیں۔
- لوکی چنے کی دال: دال کے ساتھ ۲ کپ چھلی اور کٹی لوکی ڈال دیں۔
- پیاز کا تڑکا: لہسن کی جگہ ایک کٹی پیاز گھی میں گہری سنہری کر کے ڈالیں۔
محفوظ کرنا اور گرم کرنا
یہ دال فریج میں ۳ دن اور فریزر میں ایک مہینے تک ٹھیک رہتی ہے۔ تھوڑا گرم پانی ڈال کر آہستہ چلاتے ہوئے گرم کریں، اور چاہیں تو تازہ چھوٹا سا تڑکا لگا لیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
چنے کی دال کتنی دیر بھگوئیں؟
ایک سے دو گھنٹے کافی ہیں۔ رات بھر بھگونے کی ضرورت نہیں، اس سے دانے بکھر سکتے ہیں۔
کیا اس میں گوشت یا سبزی ڈال سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ دال گوشت بہت پسند کیا جاتا ہے: دال ڈالنے سے پہلے بکرے یا گائے کا گوشت مصالحے میں گلا لیں۔ لوکی بھی عام ہے، اسے دال کے ساتھ ہی ڈال دیں۔
چنے کی دال سے پیٹ کیوں پھولتا ہے؟
چنے کی دال کافی بھاری ہوتی ہے۔ بھگونا، پوری طرح گلانا اور ادرک، زیرہ اور تڑکے میں چٹکی بھر ہینگ ڈالنا اسے ہضم کرنے میں آسان بناتے ہیں۔
غذائیت (اندازاً، فی کس)
- کیلوریز
- 330
- پروٹین
- 13 g
- چکنائی
- 15 g
- کاربوہائیڈریٹ
- 36 g